انسانوں میں مختلف خصوصیات رکھنے والے بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔
تحریر اور ترتیب: ملک نیاز
انسانوں میں جب کوئی بچی ماں کے کوکھ میں ہوتی ہے تو اس میں 60 سے 70 لاکھ انڈے (oocytes) ہوتے ہیں۔مگر پیدائش کے بعد اس میں ایک خود کار عمل کے تحت 50 سے 60 لاکھ انڈے مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور یوں ایک لڑکی صرف 10 لاکھ بیضوں (Eggs) کیساتھ اس دنیا میں اتی ہے۔جو اسکی دونوں اووریز میں موجود ہوتے ہیں۔اور بالغ ہوتے تک ان بیضوں کی مرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اور آٹھ سے پندہ سال کی عمر تک یہ تعداد 3 سے 4 لاکھ رہ جاتی ہے۔
اسکے برعکس پیدا ہونے والا لڑکا نطفوں (Sperms) کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اسکی بلوغت کی عمر میں 74 دن کے سائیکل میں پیدا ہوتے ہیں۔اور پھر مرنے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ البتہ لڑکے کی 35سال عمرہونے کے بعد یہ سپرم کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
👈بچوں کی پیدائش کا مرحلہ
ایک میل کے اندر جتنے X سپرمز ہوتے ہیں اتنے ہی Y سپرمز بھی ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک صحت مند میل میں چالیس ملین سے لیکر سو ملین تک سپرمز پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب یہ سپرمز فی میل کی اندام نہانی ( vagina ) میں داخل ہوتے ہیں تو ان سپرمز کے درمیان دوڑ شروع ہو جاتی ہے کہ پہلے انڈے تک کون پہنچے گا۔ کچھ بچارے کمزور سپرمز تو رستے میں ہی مر جاتے ہیں اور جو صحت مند سپرمز ہوتے ہیں ان کے درمیان دوڑ لگی رہتی ہے۔ اور جو سپرم پہلے انڈے تک پہنچتا ہے وہ جیت جاتا ہے اور انڈا فرٹیلائزر ہو جاتا ہے۔اور حمل کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔
👈ایکس،وائی X,Y کروموسومز
انسان میں 23 کروموسومز کے جوڑے پائے جاتے ہیں اور ہر جوڑا دو کرومیٹین پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی مجموعی طور پر 46 کرومیٹین پائے جاتے ہیں۔ کرومیٹین کی شکل کو دیکھا جائے تو یہ انگریزی زبان کے حروف X اور Y سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اس لئے ان کو XاورYکرومیٹین کہا جاتا ہے۔
مرد کے جسم میں XY کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ جبکہ عورت کے جسم میں صرف XXکروموسوم پائے جاتے ہیں۔
👈بچوں میں جنس کا تعین
اگر میل کی طرف سے سپرم کا ایکس فی میل کے ایکس سپرم سے ملاپ کرتا ہے۔تو لڑکی پیدا ہوتی ہے۔مطلبXX
ایسی طرح اگر مرد کا وائی سپرم عورت کے ایکس سپرم سے ملتا ہے۔تو لڑکا پیدا ہوگا۔یعنی XY.
👈 ہیجڑے Transgender
بعض اوقات مردوں میں ایک زائد کرومیٹین Xپیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح اس انسانی جسم میں 46کی بجائے 47 کرومیٹین پائے جاتے ہیں اور نتیجتاً 23واں بننے والا جوڑا XXYکی شکل میں سامنے آتا ہے جس سے ایک ابنارمیلٹی پیدا ہوتی ہے جس کو سائنسی زبان میں 47، XXYاور انگریزی میں Transgender کہتے ہیں۔
👈ڈاؤن سنڈروم یا منگول بچے
زائیگوٹ میں 46 کروموسوم ہونا نارمل ہے۔ مگر ڈاؤن سنڈروم میں کروموسوم نمبر 21 جب اپنے مخالف سمت سے آنے والے دوست نمبر 21 سے ملتا ہے۔ تو جنیٹک میوٹیشن (تنوع) کی وجہ سے یہ دو کی بجائے 3 کروموسوم بن جاتے ہیں۔ اسے ٹرائی سومی یا T21 بھی کہتے ہیں۔
اب زندگی کے ابتدائی واحد سیل یا خلیے میں 46 کی بجائے 47 کروموسوم ہو گئے۔ یہ سیل سٹیم سیل یا بنیادی خلیہ ہوتا ہے۔ جو آگے تقسیم در تقسیم ہو کر دیگر سیل بناتا ہے۔ ہر بننے والے سیل میں یہ کروموسوم 47 ہی بنتے چلے جاتے ہیں۔ اور نتیجتاً پیدا ہونے والا بچہ کچھ مختلف جسمانی شکل و ساخت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔جسکو ڈاؤن سنڈروم کہتے ہیں۔
👈معذور بچے
جب لڑکی کی عمر زیادہ ہوتی تو انڈے میں پروٹینز کا لیول کم ہوتا۔ 21 نمبر کروموسوم کا جوڑا جو لڑکی کا اپنا ہے وہ جدا نہیں ہوتا۔ اور ایک مرد کا کروموسوم بھی اس کے ساتھ مل جاتا ہے۔ تو یہ تین کروموسوم ہو جاتے۔ اسے Trisomy 21 کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ کام تقریباً اسی وقت ہوجاتا جس لمحے انڈہ اور سپرم آپس میں ملتے ہیں۔ ایسا نا ہونے کے برابر یا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ مرد کے سپرم میں موجود 21 کروموسوم جدا نہ ہو سکا ہو۔ اور ٹرائی سومی 21 ہو کر بچہ ڈاؤن سنڈروم ہوجائے۔ ایسا لڑکی کی طرف سے ہی اکثریت میں ہوتا ہے۔ اور پوری دنیا میں یہ بچے بڑی عمر کی لڑکیوں کے ہاں زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ گو چھوٹی عمر کی لڑکیوں کے ہاں بھی پیدا ہوتے ہیں مگر اکثریت میں ریشو بڑی عمر یعنی 32 سے 37 سال میں ماں بننا ہے۔
ڈاؤن سنڈروم کی سو فیصد وجہ یہ ایک ہی نہیں ہے۔ دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہے۔
👈جڑواں بچے
ایک سے زائد انڈوں کی موجودگی اور سپرم سے ملاپ ہونا۔ عام طور پر عورت کی ایک ماہواری کے بعد ایک ہی انڈا پیدا ہوتا ہے، مگر کبھی کبھی ایک ساتھ ایک سے زائد انڈے خارج ہوجاتے ہیں، اور پھر جب یہ ایک سے زائد انڈے علیحدہ علیحدہ سپرم سے ملاپ کرتے ہیں تو ایک سے زائد بچے وجود میں اتے ہیں۔ ایسے بچوں کو faternal twins کہا جاتا ہے۔یہ بچے اگر چہ جوڑواں ہونگے مگر ہمشکل نہیں۔
👈ہمشکل بچے
ایک بیضہ سپرم سے ملاپ کرتا ہے، جس سے زائیگوٹ بنتا ہے اور پھر اس زائیگوٹ میں تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے، اور کبھی کبھی یہ تقسیم کےدوران زائیگوٹ دو یا دو سے زیادہ حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے اور ہر حصے سے ایک بچے کا وجود بنتا ہے، ایسے جڑواں بچوں کو monozygotic twins کہا جاتا ہے, اور یہ ہم شکل ہوتے ہیں۔۔۔۔
👈کٹے تالو یا کٹے ہونٹ والے بچے
کٹے ہوئے ہونٹ کو "cleft lip" کہتے ہیں، اس صورتحال میں اوپر والے ہونٹ پر ایک کٹ یا دو کٹ ہوتے ہیں جو کہ ناک اور ہونٹ کے درمیان میں بھی ہوسکتے ہیں یا پھر مکمل، ہونٹ سے لے کر ناک تک بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کٹے ہوئے ہونٹ کی وجہ بچے کی ڈیلوپمنٹ کے دوران چہرے کے ٹشوز کا مکمل طور پر ایک دوسرے سے نہ جڑنا ہوتا ہے۔ کٹے ہوئے ہونٹ کی وجہ ایک حد تک جینیاتی ہوتی ہے، cleft lip کی صورتحال میں مختلف جینز شامل ہیں جیسا کہ transmembrane protien 1 اور GAD1 اور HYAL2 جین (یہ معلومات ایک مستند کتاب سے ہے )۔
بہت سے کیسسز میں یہ مسلہ ایک نسل سے اگلی نسل میں منتقل ہوتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ اس کی وجوہات کچھ اور بھی ہوسکتی ہیں جیسا کے پریگنینسی کے دوران کسی مسلہ سے بھی یہ صورتحال ہوسکتی ہے، جیسے پریگنینسی کے دوران کسی وٹامن (خاص کر وٹامن بی) کی کمی، یا پریگنینسی کے دوران تمباکو، شراب نوشی، یا کسی دوائی کا اثر وغیرہ، کبھی کبھی یہ صورتحال کسی اور بیماری/ سینڈروم کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔
بعض بچوں کے ہونٹ کے ساتھ /علاؤہ تالو میں بھی کٹ رہ جاتا ہے اسے cleft palate کہتے ہیں۔ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کو orofacial cleft بھی کہتے ہیں۔
👈 نوٹ
اس مضمون میں #شہزاد_سعید،#وارث_علی,#عالم_ساجد،#خطیب_احمد، صاحبان کے تحاریر کے کچھ حصے شامل تحریر ہیں۔

