اسرائیل کی آبادی صرف 66 لاکھ ہے اور وہ اس طرح اپنے ہمسائے اسلامی ملک اُردن ، لبنان، مصر اور شام کا 7 فیصد بنتا ہے۔ یعنی اگر 100 مسلمان ہوں تو اُن کے حصے میں 7 اسرائیلی یہودی آتے ہیں یہ میں نے صرف چار مسلم ممالک کا بتایا۔لیکن اگر سارے 57 ممالک کے مسلمان مل جائے تو سوچو کیا ہو سکتا ہے ۔یہ سوچ کر ہی اُن کو کانپ جانا چاہیے۔ لیکن اُن کے دل میں ہمارا خوف ہی نہیں رہا۔ میرے نبی کی حدیث سچ ثابت ہونے کا وقت آ گیا😔
حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ (گمراہ) قومیں تمہارے خلاف (لڑنے کے لیے) دوسری قوموں کو بلائیں جس طرح کھانے والے کھانے کے برتن کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔‘‘ کسی نے عرض کیا : اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسے ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے ، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا ۔‘‘ کسی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہن کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دنیا سے محبت اور
موت سے نفرت ۔‘
🖤🖤🖤🖤
وقت آن پہنچا ہے۔ مولا رحم فرما.

