پولن الرجی۔۔ایک بار ضرور پڑھیں

Y
پولن کیا ہے؟ پولن الرجی سے کیا مراد ہے؟          
 پولن یا زرگل انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں جو درختوں جھاڑیوں جڑی بوٹیوں اور گھاس کے پھول کھلنے پر خارج ہوتے ہیں یہ عموماً نر زردانے ہوتے ہیں جن کا مقصد اووری تک پہنچ کر بارآوری کرنا ہے جس سے نیا پھل بنتا ہے زرگل کا اووری تک کا سفر ہوا یا حشرات کے جسم کے ساتھ ہوتا ہے اس دوران حفاظت کے لیے زرگل کے ارد گرد سپوروپولینن کا غلاف ہوتا ہے یہ بہت باریک ہوتے ہیں

 ان کا سائز مختلف پودوں میں 2.5 مائیکرو میٹر سے 100 مائیکرو میٹر تک ہوتا ہے بیشتر گھاس کے پولن عموماً 20 سے 25 مائیکرو میٹر تک ہوتے ہیں ایک زردانے کو علیحدہ علیحدہ آپ صرف خوردبین سے دیکھ سکتے ہیں زر گل کی ایک بہت بڑی تعداد منزل مقصود تک نہیں پہنچ پاتی اور ہوا میں معلق ہو جاتی ہے بعض اقسام کے زرگل میں الرجی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے تمام میں نہیں اور مختلف پودوں میں الرجی پیدا کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے

پولن الرجی کیا ہے؟

 ہوا کے ذریعے منتقل ہونے والے زرگل کی ایک بہت بڑی تعداد ہوا میں معلق ہو جاتی ہے جو سانس کے ساتھ نظام تنفس میں چلی جاتی ہے اور الرجی پولی نوسز، hay fever وغیرہ کا باعث بنتی ہے اسے پولن الرجی کہتے ہیں انسان کو مختلف قسم کی چیزوں سے الرجی ہوتی مثلاً گرد سے ، مختلف جانوروں، حشرات، کھانوں اور دواؤں سے الرجی ان تمام صورتوں میں آپ کسی نہ کسی طرح الرجی والی چیزوں سے دور رہ سکتے ہیں لیکن پولن الرجی سے آپ کا بچنا بہت مشکل ہے حتیٰ کہ جب پولن کاؤنٹ زیادہ ہو تو گھر میں رہ کر بھی آپ مکمل محفوظ نہیں
پولن الرجی کی علامات کیا ہیں؟

عموماً پولن الرجی کی جو علامات نوٹ کی گئی ہیں مندرجہ ذیل ہیں
چھینکیں آنا اور ناک کا بہنا
آنکھوں، ناک اور گلے میں خارش
آنکھوں سے پانی بہنا
سانس کی تنگی
آنکھوں میں جلن اور سرخی
بعض افراد میں دمہ اور نظام تنفس کے دیگر مسائل
 طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں

باقی شہروں کی نسبت اسلام آباد میں زیادہ کیوں؟

 اسلام آباد دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں پولن کاؤنٹ بہت زیادہ ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پیپر میلبوری (کاغذی توت/جنگلی شہتوت ) کا درخت ہے جو اسلام آباد میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہے
پولن کی مقدار کب زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے؟
 مارچ اپریل میں پولن اپنی انتہا کو ہوتا ہے باقی مہینوں میں کافی کم ہوتے ہیں

کیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں؟

 ہمیں ہر اس اضافی چیز سے پرہیز کرنا چاہیے جو مزید الرجی کا باعث ہیں مثلاً
گرد
تمباکو نوشی
کیڑے مار اسپرے
پینٹ /رنگ روغن
پرفیوم
باغ کی سیر
قالین کا استعمال
 دوران سفر گاڑی کے شیشے بند رکھیں

کیا بارش پولن الرجی میں فائدہ مند ہے؟

 جی بارش سے وقتی طور پر پولن کم ہو جاتے ہیں لیکن پولن کے زمانے میں بارش کے بعد ان کی تعداد پہلے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے یعنی بارش کے ملے جلے اثرات ہیں۔

Comments