برصغیر کا قدیم شہر ۔۔۔ملتان

Y
ملتان
برصغیر کا قدیم ترین شہر
اگر نام کی بات کی جاۓ تو ہندو روایات کے مطابق ملتان کا پرانا نام کاشی پور تھا جسے راجہ کاشی نے آباد کیا اور پھر اس کے بعد اس کا بیٹا پرہیلاد راجہ بنا تو اس نے اپنے نام پر اس شہر کا نام پرہیلاد پور رکھ دیا۔ یہاں موجود روایات کے مطابق ایک قوم مالی جو یہاں آکے آباد ہوٸی اس کی نسبت اس شہر کا نام مالی استھان پڑا استھان سنسکرت میں جگہ کو کہتے ہیں اور مالی قوم تھی پھر مالیتان ہوا اور پھر ملتان۔
اسلام سے پہلے یہ شہر سورج کے پجاریوں کا مرکز تھا جس کا ثبوت یہاں موجود ٹیمپل ادیتیا بھی ہے جس پہ حملہ سکندر اعظم نے کیا اور یہاں سے ہی اسی جنگ میں اسے ایک زہر آلود تیر بھی لگا کہا جاتا ہے یہ ہی تیر اس کی موت کا سبب بھی بنا
یہ شہر بہت سی قوموں کی آبادی کو ظاہر کرتا ہے ایرانی مورخ فرشتہ لکھتا ہے کہ یہ شہر حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بنایا اور یہ شہر ٹریگرتا ایمپاٸر کا حصہ رہا
مہابھارت کے مطابق کرکشترہ جنگوں کے دوران ہندوٶں کا گڑھ مانا جاتا تھا

ملتان دریائے چناب کے کنارے ، پاکستان کے تقریباً وسط میں واقع، آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ یہ ٹرین، روڈ اور ہوائی جہاز کے ذریعے پورے ملک سے منسلک ہے۔ ملتان کا شمار دنیا کی قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے، جو مسلسل آباد چلا آرہا ہے۔ 
 
بہت سے شہر آباد ہوئے مگر گردش ایّام کا شکار ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔مگر شہر ملتان کل بھی آباد تھا اور آج بھی آباد ہے۔ 6000 سال پہلے تجارتی قافلے ایران سے ملتان آیا کرتے تھے۔

ملتان کے بارے میں ایک فارسی شعر ہے : 
(چہار چیز است تحفہ ملتان 
گرد و گرما گد ا و گورستان)
 
گرد کا مطلب یہ ہے کہ یہاں گرد کا طوفان بہت آتے ہیں، گرما کا مطلب ہے کہ یہاں گرمی بہت پڑتی ہے، گدا کا مطلب ہے کہ یہاں ﷲ والے لوگ بہت رہتے ہیں اور گورستان کا مطلب ہے یہاں قبرستان اور مزارات بہت ہیں۔
اسلامی شہر کے طور پر 712 میں محمد بن قاسم نے اس شہر کو آباد کیا
ملتان کو اولیاء کا شہر بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہاں بڑی تعداد میں اولیاء کرام مختلف ادوار میں تشریف لائے اور ان میں سے کئی کے مزارات بھی یہیں ہیں۔ان بزرگوں کی محنت سے ہزاروں لوگوں نے فیض پایا اور بڑی تعداد میں غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ مشہور صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکر بھی یہیں پیدا ہوئے۔ 
مورخ کہتے ہیں 11 اور 12 صدی کے اولیإ اکرام

Comments