روس و یوکرین کی افغانستان کو لاکھوں میٹرک ٹن گندم دینے کی پالیسی ۔

Y
روس و یوکراٸن کی افغانستان کو لاکھوں میٹرک ٹن گندم دینے کی پالیسی سے گندم کے پاکستانی سمگلروں کی نیندیں حرام ھوگٸی۔۔۔گندم کی قیمتوں میں گراوٹ کی شرح تیز۔۔۔ماہرین کے مطابق طویل عرصہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب،سندھ اور خیبرپختونخوا کے سمگلر جو اپنے ملک میں مصنوعی قلت کاڈھونگ رچاکر غریب عوام کو لوٹنے سمیت ہرسال بارڈرسیکیورٹی کی ملی بھگت سے لاکھوں میٹرک ٹن گندم افغانستان سمگل کرکے ہرسیزن میں اربوں روپے کماتے تھے جس سے نہ صرف آٹے کی قلت شروع ھوجاتی بلکہ آٹے کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی جس کانزلہ لامحالہ عوام پرہی گرتا مگر بھلا ھو ط۔۔۔ن کا کہ روس اور یوکراٸن سے سستی قیمتوں پر گندم کے معاہدے کرکے نہ صرف جنگ زدہ عوام کو سستے آٹے کی فراھمی یقینی بناٸی تو دوسری جانب اپنے عوام کو بھوک کے حوالہ کرکے گندم سے ڈبل کماٸی کرنے والی مافیا کی کمرہی توڑ دی۔۔۔۔۔اور ہاں بارڈر سیکیورٹی کی حرام کماٸی کارستہ بھی بند کردیا۔۔۔😉

ماہرین معاشیات کے مطابق صورت مذکورہ میں گندم کی قیمتیں 3000/3200 روپے فی من تک گرسکتی ھے۔۔۔😳

Copied

Comments