#گندم_کو_آخری_پانی_لگانے_کا_درست_وقت
جب گندم سٹہ نکال لے توبیج بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے. اس دوران کاشتکار فصل کی ضرورت دیکھے بغیر گندم کو پانی لگا دیتے ہیں جس کی وجہ سےدانا ٹھیک نہیں بن پاتا. یاد رہے آپ جتنی مرضی خوراک دے لیکن اکثر اوقات آپ دیکھتے ہیں کہ فصل تو بہت اچھی نظر آ رہی ہوتی ہے مگر دانہ بہت باریک اور بیمار سا نکل آتا ہے. اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جب سٹے میں دانا بننا شروع ہوتا ہے تو اس دوران ایک خاص وقت کے علاوہ اگر پانی دے دیا جائے تو گندم کا فائدے کی بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔لہذا اچھی پیداوار لینے کے لئے بہت ضروری ہے کہ گندم کو آخری پانی دیکھ بھال کر لگایا جائے
سٹا نکلنے کے بعد دودھیا حالت ختم ہونے لیکن دانہ سخت ہونے سے پہلے پہلے آخری پانی لگا دیا جائے. اگر دانہ سخت ہو چکا ہو تو آپ پاشی نہ کی جائے. دانا سخت ہونے پر آب پاشی کر دی جائے یا 10 ملی لیٹر سے زیادہ بارش ہو جائے تو اضافے کی بجائے گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے. مناسب وقت کے علاوہ پانی لگانے سے آکسیجن کی کمی پیدا ہونے کے سبب گندم کی جڑیں تیزی سے تلف ہونے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں گندم کا دانہ پچک جاتا ہے۔
نہ دانہ سخت نہ زیادہ دودھیا ۔ ۔ ۔ مناسب وقت پر آخری پانی لگائیں
میرا زمینوں میں آخری پانی لگانے سے کمزورتنے والی (آری۔ 2011 یا لاثانی۔2008) یا لمبے تنے والی (گلیکسی۔2013 یا عقاب۔2000) یا وزنی سٹے والی (اجالا۔2015، اے ایس۔2002 یا فیصل آباد۔2008) اقسام، ہوا نہ بھی چلے تب بھی سٹے کے وزن سے ہی گر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں مارچ کے آخر میں پانی لگانے سے فائدے کی بجائے تھوڑا نقصان پہنچ سکتا ہے. معمولی سو کا ظاہر کرنے والی فصل کو آخری پانی نہ لگانا ہی بہتر رہتا ہے.
اگرچہ گندم آخری پانی کا سوکا برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن تھل کا علاقہ یا جنوبی پنجاب کی ریتلی میرا خشکی کا شکار کمزور زمینوں میں دودھیا حالت ختم ہونے کے بعد فصل کو شدید سوکا لگ جائے تو پیداواری نقصان ہو جاتا ہے. اس قسم کی زمینوں میں دانہ معمولی سخت ہونے کے بعد بھی آخری پانی لگایاجاسکتاہے
محکمہ زراعت کی سفارش یہی ہے کہ نومبر کاشتہ گندم کو 20 مارچ کے بعد آبپاشی نہ کی جائے. جنوبی پنجاب کے لئے کم و بیش یہ سفارش اب بھی درست ہے لیکن چاول کے علاقے میں کاشتہ گندم کے لئے یہ سفارش درست نہیں ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ عشروں کے دوران گندم کی کٹائی اپریل کے دوران کی جاتی تھی لیکن آج کل موسمی حالات اس طرح بدل چکے ہیں کہ گندم کی کٹائی کا بیشتر عمل اپریل کے تیسرے ہفتے سے لے کر مئی کے تیسرے ہفتے تک موخر ہو گیا ہے. اس لئے بدلتے موسمی حالات کے تناظر میں موسمی پیشگوئی پر پوری پوری نظر رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب میں اکثر وسط مارچ، وسطی پنجاب میں 25 مارچ اور شمالی پنجاب خصوصا چاول کے علاقے میں 31 مارچ کے دوران آخری پانی لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

