سیہہ porcupine

Y
سیہہ Porcupine                   
               

پورکوپاٸن کو پنجابی اور سراٸیکی میں سیہہ بلوچی میں سِینکُر پشتو میں شکونڑ سندھی میں سیڑھ جبکہ فارسی میں تشی یا جوُجہِ تیغی کہا جاتا ہے
یہ ایک ایسا جانور ہے جو خرگوش کی نسل سے قریبی تعلق رکھتا ہے مگر اس کا جسم کانٹوں سے بھر اہوا ہوتا ہے اس کی پشت پر 6 سے 7 انچ لمبے نوکدار کانٹے موجود ہوتے ہیں۔ یہ کانٹے اسے شکاری جانوروں سے بچاتے ہیں۔ جب کوئی جانور ، چرند، پرند،با ز نہ آئے تو پشت خار پوری قوت سے حملہ کر دیتا ہے اور تیز نوکدار لمبے کانٹے اس جانور کے جسم میں پیوست کرنے سے گریز نہیں کرتا اس طرح مخالف جانور کے جسم میں پیوست کانٹے بلاآ خر اس کی موت کا سبب بن جاتے ہیں ۔ جنگلات میں جہاں شیر چیتے اور درندے ہوتے ہیں اس کو شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اکثر ناکام رہتے ہیں اور اس کے حملہ سے کانٹے جسم میں پیوست ہونے سے سسک سسک کے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔
سیہہ پاکستان سمیت امریکہ، جنوبی ایشیاء اور افریقا میں پائی جاتی ہیں۔ کترنے والے جانوروں میں یہ تیسرا بڑا جانور ہے۔ عام طور پر سیہہ کی لمبائی 25 سے 36 انچ تک جبکہ 8 سے 10 انچ لمبی دم ہوتی ہے۔ ان کا اوسط وزن تقریباً ساڑھے پانچ کلو سے لے کر 16 کلو تک ہوتا ہے۔ گول مٹول سے یہ جانور عموماً بڑے اور سُست ہوتے ہیں۔ ان کی رنگت بھوری، سرمئی اور کبھی کبھار سفید بھی ہو سکتی ہے۔ کانٹوں کے اعتبار سے یہ خار پشت سے مشابہہ ہوتے ہیں۔
یہ کہاوت بہت مشہور ہے کہ سیہہ کے کانٹے پر جادو کیا جاتا ہے جس گھر میں یہ کانٹا دبادیا جائے تو اس گھر سے لڑائی جھگڑے ختم نہیں ہوتے۔ ۔۔۔یہ واحد جانور ہے جس کے کانٹوں سے شیر بھی خوف کھاتا ہے اور اس پر براہ راست حملہ کرنے سے ڈرتا ہے۔۔عام سیہہ سبزی خور ہوتا ہے اور سبزہ اور گھاس وغیرہ کھاتا ہے۔ سردیوں میں درختوں کی چھال بھی کھا لیتا ہے۔ اکثر درخت پر چڑھ کر اپنی خوراک بھی تلاش کرتا ہے۔ عموماً سیہہ شب بیدار جانور ہے تاہم دن کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں درہ آدم خیل سمیت دیگر پٹھان بیلٹ میں باقاعدہ اسکا شکار کیا جاتا ہے۔اور بعض علاقوں میں اسکو شکارکرکے کھایا بھی جاتا ہے۔

 کاپی

Comments