تیسیر الرحمٰن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 11
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جب ان سے کہا جاتا ہے (23) کہ (اللہ کی) زمین پر فساد نہ پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ اصل میں ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں
تفسیر:
23 ۔ جب منافقین سے کہا جاتا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ یعنی کفر و معاصی کا ارتکاب نہ کرو، کافروں کے ساتھ دوستی نہ کرو، مسلمانوں کے بھید ان کے دشمنوں کو نہ دو ، اور کافروں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر جنگ کی آگ نہ سلگاؤ، تو کہتے کہ در اصل ہم ہی لوگ تو اصلاح کرنے والے ہیں کہ مسلمانوں اور کافروں کے ساتھ مدارات سے کام لیتے ہیں اور ان کے درمیان اصلاح کرتے ہیں، مسلمان کیا اصلاح کریں گے ؟ اس طرح انہوں نے قلب حقیقت سے کام لیا، زمین میں فساد پھیلایا، اور ظاہر کیا کہ ان کا عمل فساد فی الارض نہیں، بلکہ اصلاح بین الناس ہے۔
Cross posted from blurt https://blurt.one/tafseer/@tariqueshafique/tfs-r-swr-albqr-swr-nmbr-2-aa-t-nmbr-11-ar-nmbr-1-ar-r-wa-2-swr-r-wa-2

