اپ کے خدمت میں اس تصویر کے مطلق
کچھ اشعار پیش خدمت ہے
ٹوٹا ہوا ہوں مگر بکھرا نہیں کبھی
باندھا ہوا ہے خود کو کچھ اس ادا سے
اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی
اس کو کہتے ہیں انتظار میاں
ذہنوں_"پر صدموں کا بوجھ لیے
ہم نے مرنے تک تو جینا ہے-"
ہر شخص تو فریب نہیں دیتا۔۔۔♨️
#مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا😏
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے
شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
فیض احمد فیض
ذہنوں_"پر صدموں کا بوجھ لیے
ہم نے مرنے تک تو جینا ہے-
اس کی درد بھری آنکھوں نے جس جگہ کہا تھا الوداع
آج بھی وہی کھڑا ہے دل اس کے آنے کے انتظار میں
وہ جس کے واسطے ، دُنیا کا دل دُکھایا تھا
بچھڑ کے اُس سے ، بہت لوگ یاد آئے مجھے

