شہاب الدین محمد غوری نے کس کے کہنے پہ ہندوستان پر حملہ کیا

S

 میری طرف سے تمام دوستوں کو السلام علیکم کیسے ہیں آپ  دوست امید کرتا ہوں خیر خیریت سے ہونگے اور بہت اچھے ہونگے



شہاب الدین فرماتے ہیں کہ میں ایک بار سویا ہوا تھا افغانستان میں تو ایک بزرگ میرے خواب میں آئے اور فرمایا کہ تو ہندوستان پر حملہ کر میں نے ماحول بنا دیا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں کامیاب کرے گا شہاب الدین غوری فرماتے ہیں کہ میں پھر سو گیا اگے دن پھر وہی بزرگ خواب میں آیا اور کہا کہ یار تو تو بڑا سست آدمی ہے میں تجھے کہتا ہوں کہ حملہ کر اور تجھے سمجھ ہی نہیں آتی فرماتے ہیں کہ میں نے پھر اتنی زیادہ دلچسپی نہیں لی اگلے دن پھر وہی بزرگ خواب میں آئے اور مجھے جنجھوڑ کر کہا کہ یار میں تجھے کہا ہوں حملہ کر اللہ تعالیٰ تمہیں کامیاب کرے گا شہاب الدین غوری کے پاس ستر ہزار فوج تھی اور ساری غوث پاک کی ماننے والی تھی تو شہاب الدین غوری فرماتے ہیں کہ میں فون کے ہندوستان پر حملہ کیا تو ایک بزرگ بڑا خوبصورت انہوں نے امامہ باندھا ہوا تھا اور سب اگے لڑ رہے تھے تو فرماتے ہیں کہ وہ زیادہ لڑے انہوں نے بڑے بندے مارے اور میں جب بھی ان کا چہرہ دیکھنے کے لیے قریب جاتا تو وہ گھوڑے کو ایڑی لگاتے اور اگے نکل جاتے پھر یوں ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ نے کامیابی دی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی اس کے بعد میں نے دیکھا تو وہی بزرگ مسجد میں کھڑے ہو کر ازان دے رہے فرماتے ہیں کہ میں پھر بھی چہرہ نہیں دیکھ سکا کیونکہ منہ کابے کی جانب تھا تو میں نے جلدی سے وضو کیا اور میں مسجد میں داخل ہوا تو وہ بزرگ جماعت کرا رہے تھے تو کہتے ہیں کہ جب ہم سب نے نماز پڑھ لی اور انہوں نے نمازیوں کی طرف منہ پھیرا تو میں نے دیکھا کہ وہی بزرگ جو مجھے خواب میں ملے شہاب الدین غوری فرماتے ہیں کہ میں قریب گیا میں نے عرض کی اے حضور پہلے خواب میں ملے پھر ہمارے ساتھ مل کر لڑے بڑے بندے مارے سب سے زیادہ لڑے پھر آذانیں دیں نمازیں پڑھائیں اب مہربانی کریں حضور اپنا نام تو بتا دیں تو فرمانے لگے کہ اتنا بڑا نام کوئی نہیں فقیر کو معین الدین اجمیری کہا جاتا ہے

Comments