Critical Story Second Shadow

S
shafiqq
Assalam Alaikum to all my Muslim brothers and sisters from shafiqRafiq, how are you all friends, I hope you are doing well and very well. May the members always be happy and free from trouble and may no one ever face any great sorrow or pain.

 Hello sir 💖 

Hello my beautiful  friends

I hope all are fine by the grace of Allah 

May Allah bless you all 

Critical Story Second Shadow

Second Shadow
کہیں دور ایک لڑکا موسیٰ رہتا تھا۔وہ لڑکا ہمیشہ

 اپنے سائے کا بہت خیال کیا کرتا تھا۔موسیٰ ویسے بھی بہت ذمے دار لڑکا تھا جو اپنے جوتوں اور کپڑوں کے بٹنوں تک کا بہت خیال کرتا تھا،لیکن سب سے زیادہ خیال وہ اپنے سائے کا رکھتا تھا،کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ اُس کا صرف ایک ہی سایہ ہے اور وہی ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گا۔ وہ ہمیشہ چلتے وقت خیال رکھتا کہ اس کا سایہ زیادہ مٹی میں نہ چلے اور اگر وہ کسی ایسی جگہ سے گزرتا جہاں زیادہ مٹی ہوتی تو وہ وہاں سے تیزی سے گزر جاتا۔ موسیٰ اپنے سائے کا بہت خیال کرتا،پھر بھی ایک جادوگرنی کی نظروں میں آ گیا۔ ایک دن موسیٰ جب اسکول سے واپس گھر آ رہا تھا تو ایک جادوگرنی نے اسے راستے میں روک لیا۔  وہ بولی:”میں تمہیں ہمیشہ سائے کا خیال رکھتے دیکھتی ہوں اور یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ تم اپنے سائے کا بہت خیال کرتے ہو۔“ موسیٰ نے کہا:”میں اس کا خیال اس لئے رکھتا ہوں،کیونکہ یہ ایک ہی ہے اور پھر اسے ساری زندگی میرے ساتھ رہنا ہے۔ “ جادوگرنی موسیٰ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولی:”تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔تم ہی وہ لڑکے ہو،جس کی مجھے تلاش تھی۔میں چاہتی ہوں کہ کوئی میرے سائے کی بھی حفاظت کرے،کیونکہ میں چھٹی پر جا رہی ہوں۔میں ہر گز اپنے بوڑھے،ہڈیوں کے ڈھانچے جیسے سائے کو ساتھ لے کر جانا نہیں چاہتی۔ تم جانتے ہو،کئی دفعہ یہ سائے بڑی مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں۔“ موسیٰ نے حیرانی سے سوچتے ہوئے جواب دیا:”لیکن میرے سائے نے تو کبھی مجھے مصیبت میں نہیں ڈالا۔“ جادوگرنی بولی:”ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں دو ہفتوں کے لئے اپنے سائے سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میں اسے کسی ایرے غیرے کے حوالے بھی نہیں کرنا چاہتی۔میری خواہش ہے کہ میں اسے تمہارے حوالے کرکے جاؤں۔“ موسیٰ ڈر رہا تھا،اس لئے اس نے مناسب نہیں سمجھا کہ وہ کسی جادوگرنی سے بحث کرے۔وہ بولا:”ٹھیک ہے میں رکھ لیتا ہوں،لیکن مہربانی فرما کر جلدی واپس آجائیے گا۔ “ جادوگرنی اپنی طرف سے نہایت مہذب انداز میں مسکرائی،حالانکہ مسکراتے وقت وہ خاصی خوف ناک لگ رہی تھی۔پھر اس نے وعدہ کرتے ہوئے موسیٰ سے کہا:”اگر تم میرا سایہ جوں کا توں بہترین حالت میں مجھے لوٹاؤ گے تو میں تمہیں ایک جادو کا منتر دوں گی،جو صرف تمہارا ہو گا۔ اس کا فیصلہ میں خود کروں گی کہ تمہارے لئے کون سا منتر مناسب رہے گا۔“ پھر اس نے اپنے سائے کو موسیٰ کے سائے کے ساتھ باندھ دیا اور خود جادو کی جھاڑو پر سوار ہو کر فضا میں بلند ہو گئی۔اس کے اوپر سورج کی روشنی تھی،لیکن اس کا سایہ نہیں تھا۔ البتہ موسیٰ کے اب دو سائے تھے۔دوسرا جادوگرنی والا سایہ غصے میں تھا۔یہ شاید دنیا کا سب سے بدتہذیب سایہ تھا۔ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا آیا ہے کہ سایہ وہی حرکتیں کرتا ہے،جو اس کا مالک کرتا ہے،لیکن یہ اُصول جادوگرنی کے سائے پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔ جب موسیٰ پھلوں کی دکان پر سیب خریدنے گیا تو جادوگرنی کا سایہ دوسرے پھلوں کے سایوں پر منڈلانے لگا۔اس نے کیلوں،مالٹوں اور ناشپاتیوں کے سایوں کو گڈمڈ کر دیا۔پھل فروش چلا کر بولا
 Somewhere far away there lived a boy Musa. That boy always.                               
 He cared a lot about his shadow. Moses was still a very responsible boy who cared a lot about his shoes and the buttons of his clothes, but most of all he cared about his shadow, because he knew that his  There is only one shadow and that will remain with him for the rest of his life.  He would always take care while walking that his shadow did not move in too much mud and if he passed by a place where there was more mud, he would pass quickly.  Musa used to care a lot about his shadow, yet he fell into the eyes of a witch.  One day when Moses was returning home from school, a witch stopped him on the way.  She said: "I see you always taking care of your shadow and I like that you take care of your shadow so much." Musa said: "I take care of it because it is the same."  And then he has to stay with me for the rest of his life.  The witch nodded to Moses and said: "You are right. You are the boy I was looking for. I want someone to protect my shadow too, because I am going on vacation."  I don't want to carry my old, bone-like shadow with me.  You know, many times these shadows cause great trouble." Musa replied, thinking in surprise: "But my shadow has never caused me trouble." The witch said: "Maybe you are right.  Yes, but my problem is that I want to get rid of my shadow for two weeks.  I don't want to hand her over to anyone else. I wish I could hand her over to you." Musa was afraid, so he didn't think it appropriate to argue with a witch. He said: "Okay.  I keep it, but please come back soon.  The sorceress on her part smiled very civilly, though she looked very fearful when she smiled. Then she promised Moses: "If you will return my shadow to me in the best condition, I will give you a  I will give a magic spell, which will be yours only.  I will decide for myself which mantra will be suitable for you.” Then he tied his shadow with the shadow of Moses and himself mounted on the magic broom and rose into the sky. Above him was the sun.  There was light, but there was no shadow.  However, Moses now had two shadows. The second witch shadow was angry. It was probably the most uncivilized shadow in the world. It has always been the case that the shadow does the same actions as its owner, but this principle.  Did not apply to witches' shadows.  When Musa went to the fruit shop to buy apples, the shadow of the witch started hovering over the shadows of other fruits. She confused the shadows of nails, malts and pears.
  
:”اس سائے کو یہاں سے دور پھینک کر آؤ۔ میں مالٹوں کو کیسے بیچوں گا اگر ان کا سایہ ہی نہیں ہو گا یا وہ کیلے کون خریدے گا جن کا سایہ ناشپاتیوں جیسا ہو گا۔“ موسیٰ جادوگرنی کے سائے کو اتنی آزادی دینا نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنی من مانی کرتا پھرے۔وہ بے چارہ سیب خریدے بغیر ہی وہاں سے واپس آ گیا۔ پھر شام کو گھر میں چائے پیتے ہوئے جادوگرنی کا سایہ دیوار پر چڑھ کر پھیل گیا۔دیوار کے ساتھ لگے گھڑیال پر سایہ پڑا تو وہ بند ہو گیا۔اسے دیکھ کر میاں مٹھو کو دورہ پڑ گیا۔پھر اس نے کتے کے سائے کی دُم کو مروڑا تو موسیٰ کی امی نے زور سے کہا:”مجھے اس منحوس سائے کو دیوار پر ٹہلتا دیکھ کر چائے پینے میں ذرا مزہ نہیں آ رہا ہے۔ موسیٰ!اسے گھر سے باہر ہی رکھا کرو۔“ موسیٰ کو جادوگرنی سے کیے ہوئے وعدے کا خیال تھا۔اس نے باورچی خانے میں چائے پینی شروع کر دی۔وہ اب اس سائے کی حرکتوں کو بخوبی جانتا تھا،اس لئے وہ سائے کو شرارتوں کا موقع ہی نہیں دیتا تھا،لیکن اس طرح کی رکاوٹ سے سایہ بہت ناراض ہو گیا۔ تبھی موسیٰ کی احتیاط کے باوجود سائے نے شرارتوں کے نئے طریقے سوچ لیے۔اس نے اب موسیٰ کے اپنے سائے کو چٹکیوں سے کاٹنا اور ڈرانا شروع کر دیا۔ایسی حرکت کو دیکھنا بھی موسیٰ کے لئے بڑی تکلیف کا عمل تھا۔موسیٰ اپنے سائے کے ساتھ ہمیشہ مہربانی سے پیش آتا تھا۔ لہٰذا موسیٰ کے سائے کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس عفریت کا کس طرح مقابلہ کرے۔ ایک دن موسیٰ اسکول سے گھر جا رہا تھا۔دھوپ نکلی ہوئی تھی۔دونوں سائے اس کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔موسیٰ نے دیکھا کہ جادوگرنی کے سائے نے موسیٰ کے سائے کو بھنبھوڑ دیا۔ موسیٰ کے سائے نے درد کے مارے چیخ ماری اور وہاں سے بے اختیار بھاگ نکلا۔موسیٰ اس کے پیچھے دوڑا،لیکن وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ جادوگرنی کے سائے کی بھیانک ہنسی کی آواز آ رہی تھی۔اب پھر موسیٰ کے پاس ایک ہی سایہ رہ گیا تھا لیکن یہ اس کا اپنا سایہ نہیں تھا۔ اس کا اصل سایہ اس کا ساتھ چھوڑ کر جا چکا تھا۔اب تو جادوگرنی کا سایہ ہی باقی بچا تھا۔موسیٰ اب اُداس اور تنہا تھا۔اس نے کوشش کی کہ وہ جادوگرنی کے سائے سے دوستی کرنے اور اس کا خیال رکھے،لیکن یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی بچہ کسی بھیڑیے کو پالتو بنا کر رکھنا چاہے۔ آخر جادوگرنی واپس آ ہی گئی۔اس کا رقعہ آیا کہ وہ آدھی رات کو موسیٰ سے ملنا چاہتی ہے،لہٰذا موسیٰ اس کا سایہ بھی ساتھ لیتا آئے۔وہ چودھویں کی رات تھی اور چاند نکلا ہوا تھا،ورنہ سائے کو ڈھونڈنا آسان نہ تھا وہ ہر وقت اندھیرے میں چھپ کر بیٹھا رہتا تھا۔ پھر جادوگرنی نے اپنے سائے کو واپس لے لیا پھر جادوگرنی بولی:”یہ لو یہ ہے تمہارا جادو کا منتر۔“ اس نے ایک دھاری دار ٹافی موسیٰ کے ہاتھ میں تھما دی جو چمگادڑ کے پَر میں لپٹی ہوئی تھی۔وہ بولی:”جو لڑکا اس ٹافی کو کھا لے گا وہ جب چاہے کسی بھی طرح کے اونٹ کا روپ دھار سکتا ہے۔ وہ دوڑ لگانے والا اونٹ بھی ہو سکتا ہے اور گھریلو بھی۔“ یہ منتر موسیٰ کے کسی کام کا نہیں۔وہ تو صرف یہی چاہتا تھا کہ کس طرح اس کا سایہ واپس آ جائے۔اس نے جادوگرنی سے اس کے سائے کی شکایت بھی کی،لیکن وہ جادوگرنیوں کی طرح ناک منہ چڑھا کر بولی

:"Throw this shadow away from here.  
How will I sell the malts if they have no shade or who will buy the bananas whose shade is like pears.” Moses did not want to give the witch's shade so much freedom that it would do its bidding.  Chara returned from there without buying apples.  Then in the evening while drinking tea in the house, the shadow of the witch climbed the wall and spread. The shadow fell on the gharial next to the wall and it stopped. Seeing this, Mian Mithu had a seizure. Then he caught the tail of the shadow of the dog.  Musa's mother said loudly: "I don't enjoy drinking tea after seeing this sinister shadow walking on the wall."  Musa! Keep him out of the house.” Musa remembered the promise he had made to the witch. He started drinking tea in the kitchen. He now knew the shadow's movements well, so he would mischief the shadow.  He didn't give a chance, but the shadow got very angry with such an obstacle.  Then, despite the caution of Moses, the shadow thought of new ways of mischief. He now started pinching and scaring his shadow of Moses. It was also a painful act for Moses to see such an act. Moses was afraid of his shadow.  He was always kind.  Therefore, the shadow of Moses did not understand how to fight this monster.  One day, Moses was walking home from school. The sun was out. Both shadows were following him. Moses saw that the shadow of the witch eclipsed Moses' shadow.  Musa's shadow screamed in pain and fled from there helplessly. Musa ran after him, but he disappeared from his sight.  There was a sound of horrible laughter from the witch's shadow. Now Moses was left with only one shadow, but it was not his own shadow.  His original shadow had left him. Now only the witch's shadow remained. Moses was now sad and lonely. He tried to befriend and take care of the witch's shadow, but it  It was like a child wanting to keep a wolf as a pet.  Finally, the witch came back. She realized that she wanted to meet Musa at midnight, so Musa brought her shadow with him. It was the night of the fourteenth and the moon was out, otherwise it would not have been easy to find the shadow.  He was always hiding in the dark.  Then the sorceress withdrew her shadow. Then the sorceress said: "Here is your magic spell." She handed Moses a striped toffee wrapped in a bat wing. She said: "Jo  The boy will eat this toffee and can pretend to be any kind of camel whenever he wants.  He can be a racing camel or a householder.” This spell was of no use to Moses. He only wanted to know how his shadow would return. He also complained to the witch about his shadow.  But she spoke through her nose like a witch

:”میاں!دنیا میں کوئی چیز آسانی سے نہیں ملتی۔ میں نے تمہیں تمہارا انعام دے دیا ہے۔اب بھاگو اور گھر جاؤ۔“ موسیٰ کو مجبوراً اس کی بات ماننی پڑی اور وہ سر جھکائے سڑک پر گھر کی طرف چل پڑا۔جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہاں کسی چیز نے حرکت کی۔وہ اس کا اپنا سایہ تھا جو شرمندہ سا ہو کر دوسرے سایوں میں چھپا بیٹھا تھا۔ وہ موسیٰ کی طرف آیا اور پھر اس کے پیروں میں لپٹ گیا۔وہ اتنا خوش تھا کہ بے اختیار چاند کی چاندنی میں ناچنے لگا۔اس نے دیکھا کہ اس کے ساتھ اس کے قدموں سے لپٹا اس کا سایہ بھی خوشی سے ناچ رہا تھا۔
:”Mian! Nothing in the world comes easily.  I have given you your reward. Now run and go home.” Musa had to obey him and he bowed his head and walked towards the house on the road. When he reached the door of the house, something moved there.  He was his own shadow, which was shyly hiding in other shadows.  He came towards Musa and then fell at his feet. He was so happy that he danced helplessly in the moonlight. He saw that his shadow, clinging to his feet, was also dancing with joy.

I will always be remembered in my prayers, thank you

Comments