❇️ My Article Story  Sang Dil ❇️

S
shafiqq
               💯 *السلام علیکم۔*.💯
 %%%%%%%%%%%%%%%%%%
"”"""''"''''''"'"""""'""""""""""""""""""""'"
شروع کرتا ہوں اللہ پاک کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے🌱🌱🌱🌱
****************************************
I begin with the name of Allah, the Most Merciful and the Most Merciful
##########################
               ❇️Hi All My Friends!❇️

*************************************
         ❇️Assalam-o-Alaikum❇️
             
Greetings to my all  members. Hopefully, you are all great and enjoying a better and blessed life with the grace of GOD

I am really really thankful for the platform for giving us an awesome opportunity to do some work. And earn something for ourselves also. And the most important thing is that I learned a lot from this platform

 ‎How are you friends? I hope you are all well and busy with your work. Friends, I pray that Allah forgives all our sins and blesses us with sustenance. Amen
 
         #My Article Story#

💕May Allah bless you all💕
???????????????????????????????
     ❇️ My Article Story  Sang Dil ❇️

 صائم رائیٹس 🥀 💯
شیخ شہباز شاہین یوسف آج پھر کام سے دیر سے آیا تھا۔البتہ وہ اپنے بیٹوں کے لئے کھلونے لانا نہیں بھولا تھا۔اب وہ انہیں کھیلتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا اور کبھی کبھی ان کے ساتھ کھیلنے بھی لگ جاتا۔فائزہ جو کھانا پکانے میں ,7مصروف تھی اچانک اس کی نظر اپنی بیٹیوں عشاء اور فجر پر پڑی جو حسرت بھری نگاہوں سے باپ اور بھائیوں کو دیکھ رہی تھیں۔ فائزہ اتنی دور بیٹھ کر بھی ان کی آنکھوں کے آنسو دیکھ سکتی تھی۔فائزہ کے دل میں یوسف کے لئے ناراضگی کے جذبات اُبھرے
Sime Wrights 🥀 💯
 Sheikh Shahbaz Shaheen Yusuf came late from work again today. However, he did not forget to bring toys for his sons. Now he was happy to see them playing and sometimes he would even start playing with them. Faiza who cooks.  I, 7, was busy, suddenly his eyes fell on his daughters Isha and Fajr who were looking at their father and brothers with longing eyes.  Even sitting so far away, Faiza could see the tears in his eyes. Feelings of displeasure for Yusuf arose in Faiza's heart.
وہ جلدی جلدی کام ختم کرکے یوسف کے پاس آگئی اور پوچھنے لگی”عشاء اور فجر کے لئے کیا لائے ہو؟“ یوسف نے حیرانی سے فائزہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا”میں ان کے لئے کیا لاتا؟راستے میں مجھے نہال اور بلال کے لئے کھلونے نظر آئے تو ان کے لئے میں نے خرید لئے۔ “یہ سن کر فائزہ کو بہت غصہ آیا اور ان دونوں کی لڑائی ہو گئی۔ہر دفعہ یوں ہی ہوتا یوسف نہال اور بلال کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ لاتا مگر بیٹیوں کے لئے شاذو نادر ہی کبھی کوئی چیز لاتا تھا۔ فائزہ کو اب یقین ہوتا جا رہا تھا کہ یوسف بیٹیوں کی نسبت بیٹوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اور عشاء اور فجر باپ کے پیار کو ترستی ہیں۔ یہ سوچ فائزہ کے دل و دماغ پر اس طرح حاوی ہوئی کہ اس کے دل میں نہال اور بلال کے لئے شدید نفرت پیدا ہونے لگی۔وہ بلال اور نہال سے نفرت کا اظہار کرنے لگی تھی لیکن یوسف کی وجہ سے چپ ہو جاتی۔یوسف فائزہ کے اس رویہ سے سخت پریشان تھا،اس کو سمجھ نہ آتی فائزہ بچوں کے ساتھ کیوں ایسے پیش آتی ہے۔ فائزہ کے دل میں خیال آیا اگر نہال اور بلال نہ ہوتے تو یوسف اپنی ساری توجہ اور محبت عشاء اور فجر کی طرف دے گا۔اب وہ ہر وقت یہی سوچتی رہتی اور ہر کام غائب دماغی سے سر انجام دیتی ۔فائزہ کی مسلسل غائب دماغی کی وجہ سے یوسف نے اس سے بات کی کہ ایسا کیا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہے وہ ہر دفعہ بات ٹال دیتی۔ ایک دن یوسف کام سے گھر واپس آیا تو اسے گھر کی فضا میں عجیب و حشت محسوس ہوئی۔اُس کی دنیا لٹ چکی تھی۔وہ صبح صحیح سلامت نہال کو چھوڑ کر گیا تھا اور اب․․․․․صحن میں وہ مردہ حالت میں پڑا تھا۔سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ فائزہ کی آنکھوں میں غم کے بجائے ایک وحشت تھی۔ ابھی وہ اسی صدمے میں ہی تھا کہ چند مہینوں بعد یوسف کو اپنے چار سالہ بیٹے بلال کی اچانک موت کی خبر ملی۔یوسف کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کے دونوں بیٹے اس دنیا میں نہیں رہے وہ ہر وقت اسی سوچ میں مبتلا رہتا کہ اس نے ایسا کیا کیا ہے جس کی اسے اتنی بڑی سزا ملی ہے۔ اُسے کبھی کبھی اپنی بیوی پر شک ہوتا شاید بیٹوں کی موت میں اس کا کوئی ہاتھ ہے لیکن وہ یہ سوچتا کہ کوئی ماں کبھی اپنے بچوں کو قتل نہیں کر سکتی۔ فائزہ کو ہر وقت اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوتا اسے لگتا کہ اس کے بچے اسے بلا رہے ہیں وہ رات کو اُٹھ کر چیخیں مارتی ۔ فائزہ کو اپنے بچوں کی روح نظر آتی۔یوسف پہلے سمجھا کہ شاید یہ ابھی تک صدمے میں ہے۔وہ اسے پیار سے بہت سمجھاتا لیکن فائزہ پر کسی چیز کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ فائزہ کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی یوسف نے کافی علاج کروایا
She quickly finished the job and approached Joseph and asked, "What have you brought for Isha and Fajr?" Joseph looked at Faiza and said, "What do I bring for them? On the way, I saw toys for Nahal and Bilal. "Faiza was very angry to hear this and the two of them fought. Every time it would have been Yusuf Nehal and Bilal, he would have brought something, but rarely for the daughters, he rarely brought something. Faiza was now convinced that Joseph loves sons more than daughters, and Isha and Fajr are loved by their father. This thought dominated the heart and mind of Faiza in such a way that there was intense hatred for Nahal and Bilal in her heart. She began to express hatred of Bilal and Nahal, but she was silent because of Joseph. Yusuf was deeply disturbed by this attitude of Faiza. In the heart of Faiza, if there were no nahal and Bilal, then Joseph would give all his attention and love to Isha and Fajr. One day when Joseph returned home from work, he felt strange in the atmosphere of the house. His world had hung up. He had left the safe in the morning, and now he was dead in the courtyard. The most surprising thing was that Faiza's eyes had a horror rather than grief. He was still in shock that a few months later, Joseph received the news of the sudden death of his four-year-old son, Bilal. Joseph was not convinced that his two sons were not in this world. He was always wondering what he had done so much. He would sometimes doubt his wife, maybe he had a hand in the death of his sons, but he thought that a mother could never kill her children. Faiza felt her breathing all the time, and she felt that her children were calling her. She would get up at night and scream. Faiza sees the spirit of her children. Yusuf first thought that he was still in shock. He would love it a lot, but Faiza had no effect. The condition of Faiza was worsening day by day.
 لیکن بے سود رہا۔ یوسف نے کچھ عرصے کے لئے گھر سے کہیں دور جانے کا پروگرام بنایا تاکہ فائزہ کو جلد از جلد اس صدمے سے باہر نکالا جا سکے۔لیکن فائزہ کی صحت پر کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ایک روز فائزہ گہری سوچوں میں گم تھی۔یوسف کافی دیر سے اسے نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک وہ پوچھنے لگی”کیا تم اپنے بیٹوں سے بہت پیار کرتے تھے۔“ ”ہاں میں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں،مگر تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟“۔ ”اگر تمہیں پتہ چلے کہ تمہارے بچوں کو کسی نے قتل کیا ہے تو تم کیا کرو گے؟“ ”میں ایک منٹ بھی نہیں سوچوں گا اور ویسے ہی اس کا قتل کروں گا جیسے اس نے میرے بچوں کا کیا۔ “ اس روز کے بعد فائزہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔اب وہ ہذیانی کیفیت میں اپنے بیٹوں کو یاد کرتے ہوئے ایسی باتیں کرتی جن سے یوسف کے دل میں پھر شک پیدا ہونے لگا۔ایک دن یوسف معمول سے جلدی گھر آگیا۔فائزہ ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھی اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر عشاء اور فجر پر پڑی جو اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں۔ یہ دیکھ کر فائزہ کو خوشی محسوس ہوئی ساتھ ہی ساتھ اسے اپنے بیٹوں کی شدید کمی بھی محسوس ہوئی۔اسے ہر جگہ نہال اور بلال کی آوازیں اور شعلے نظر آنے لگے اسے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا
 But it was in vain.  Yusuf planned to go away from home for some time so that Faiza could get out of this shock as soon as possible. But there was no significant effect on Faiza's health. One day Faiza was lost in deep thoughts.  Been trying to normalize it for a long time.  Suddenly she started asking "Did you love your sons very much." "Yes I love my children very much, but why are you asking this?"  "What will you do if you find out that someone has killed your children?" "I will not think for a minute and kill him like he did my children."  "After that day, Faiza became more depressed. Now she was delirious, remembering her sons, saying things that caused doubts in Yusuf's heart again. One day, Yusuf came home earlier than usual. Faiza  Sitting on a high hill and looking around, suddenly her eyes fell on Isha and Fajr who were busy playing with their father.  Seeing this, Faiza felt happy, but at the same time, she also felt the great loss of her sons. She started seeing flames and voices of Nihal and Bilal everywhere. She felt her mind bursting.
۔اس کا سانس بند ہونے لگا یوسف کی نظر اچانک فائزہ پر پڑی اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر یوسف اس کی طرف لپکا۔ لیکن فائزہ کے الفاظ نے اس کے قدم جما دیئے․․․․․”میں نے اپنے بچوں کو مار ڈالا․․․․قتل کر دیا میں نے اپنے بیٹوں کو“۔یوسف نے نفرت بھری نگاہ فائزہ پر ڈالی اور پوچھا”تم یہ سب کیسے کر سکتی ہو۔تم نے اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے بچوں کو مار دیا تم کیسی ماں ہو تم تو ماں کہلانے کے بھی لائق نہیں ہو۔ کوئی ماں اس حد تک ظالم نہیں ہو سکتی۔تم نے ایسا کیوں کیا؟“ ”یہ سب کچھ میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے کیا ہے،تم ہر وقت نہال اور بلال سے پیار کرتے تھے۔عشاء اور فجر کی تمہیں کوئی پروا نہ تھی“۔ یہ سن کر یوسف مزید آگ بگولا ہو گیا”جیسے میرے لئے نہال اور بلا ل تھے ویسے ہی عشاء اور فجر تھیں۔ فرق میں نے نہیں کیا فرق تمہاری سوچ میں تھا۔تم ایک نفسیاتی مریضہ بن چکی ہو میں اور میری بیٹیاں اب مزید تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں۔آج تم نے اپنے بیٹوں کو اپنی بیٹیوں کے لئے مار دیا ہے کل تم اپنی بیٹیوں کو کسی اور کے لئے مار دو گی۔میں فجر اور عشاء کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمہاری زندگی سے دور چلا جاؤں گا اور اب تمہاری سزا کا فیصلہ عدالت کرے گی۔“وہ فائزہ کو روتی چیختی چھوڑ کر بچیوں کے پاس چلا گیا۔
His breath started to stop. Yusuf's eyes suddenly fell on Faiza. Seeing her deteriorating condition, Yusuf ran towards her.  But Faiza's words froze his feet... "I killed my children... I killed my sons". Yusuf cast a hateful look on Faiza and asked "You  How can everyone do it? You killed your children with your own hands. What kind of mother are you? You don't even deserve to be called a mother.  No mother can be so cruel. Why did you do this?” “I have done all this for my daughters, you always loved Nihal and Bilal. You did not care about Isha and Fajr.  ".  Hearing this, Yusuf became even more enraged.  I did not make the difference, the difference was in your thinking. You have become a psychotic patient. I and my daughters can no longer live with you. Today you have killed your sons for your daughters, tomorrow you will kill your daughters for someone else.  I will take Fajr and Isha and I will go away from your life forever and now the court will decide your punishment. He left Faiza crying and went to the girls.
💕💫💕💫💕💫💕💫💕💫💕💫💕💫
🥰🤩🥰🤩🥰🤩🥰🤩🥰🤩🥰🤩🥰🤩
اللہ تعالی آپ سب کو خوش رکھے
May Allah bless you all
اگر میرا آرٹیکل پسند آتا ہے تو کمنٹس میں بتائیں
If you like my article then tell me in comments
💙🔵💙🔵💙🔵💙🔵💙🔵💙🔵💙🔵
O Allah, grant me the opportunity to earn halal sustenance
اے اللہ مجھے رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرما
Every word is Masha Allah Masha Allah
ہر لفظ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ہوتا ہے
❇️🌄❇️🌄❇️🌄❇️🌄❇️🌄❇️🌄❇️🌄❇️
💫I thank all those who read and like my article and vote like💫
جو لوگ میرا آرٹیکل پڑھتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں اور ووٹ لائک بھی کرتے ہیں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں🌹
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

Comments

mughals

Nice Story Bhai