میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی کسی کو چاہنے لگتا ہے تو من ہی من میں اس کے لیے تڑپتا ہے بلکتا ہے اُس کے لیے بہت سارے ارمان اور جذبات رکھتا ہے کہتا ہے کہ صرف ایک اُسے کے علاوہ دنیا میں کچھ نہیں بس ایک وہی ہے صبح کی شروعات اور رات کا اختتام وہی ایک ہی سے ہے، پھر وہ یہ سب اپنے محبوب کو سناتا ہے اور اِسی طرح وہ اُس کے دل و دماغ پر حاوی' ہوجاتا ہے جب کہ دوسری طرف سے اُسے اعتراف محبّت ملتا ہے تو وہ پرسکون ہوجاتا ہے اسے اطمینان ہوجاتا ہے کہ اب محبت دونوں طرف سے برابر ہے اور وہ پرسکون ہوکر رہنے لگتا ہے اور اسی طرح محبت میں بڑی بڑی باتیں ہوجاتی ہیں ساتھ رہنے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اتنی پلاننگ کرتے ہیں کہ جیسے تقدیر کا ورق ان کے سامنے پڑا ہے اور ورق پر لکھنے والا قلم ان کے ہاتھ میں ہے اور یہ جو جو لکھتے جائیں گے ویسا ہوگا مگر ہرگز نہیں ہم جو سوچتے ہیں قسمت ہمارے ساتھ ہماری سوچ سے اُلٹ کھیل کھیلتی اور محبت انسان کو ایسی بنجر زمین اور صحرا میں گھسیٹ کر پھینکتی ہے جہاں نہ تو پانی ہوتا ہے کہ آپ اپنا خشک گلا پانی پی کر ترو تازہ کر سکیں نہ ہی پیڑ نہ ہی کوئی سایا ہوتا ہے کہ اپنا تھکا ہوا جسم دھوپ سے چھپا سکیں اور نہ ہی کوئی ہوتا ہے جو آپ کی آواز سن سکے جو دردوں سے چور آپ کے گلے سے باہر نکلتا ہے، محبت باہر سے دیکھنے میں خوبصورت احساس کا جزیرہ ہے جبکہ محبت میں ٹھکرایا ہوا انسان اذیتوں کی ایک زندہ مثال ہے اور محبت اظہار کے بعد کچھ لمحے سکون دیتی ہے اور پھر کچھ وقت گزرتا ہے پھر ان دونوں کے رویے تلخ ہوجاتے ہیں اور لہجے سخت پڑ جاتے ہیں. اور محبتيں پھیکی پڑنے لگتی ہیں ،پھر جو ایک پل کی دوری برداشت نہیں کرتے تھے وہ لوگ سالوں تک انجان شخص بن جاتے ہیں

