آپ بیتی

S
sarmad
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی گھر میں میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں جب جاؤں گا تو وہ خوشی سے مجھے اپنے گلے لگا لیں گے۔ اُن کی خیریت دریافت کر کے، ان کی صحت کے متعلق چند معمول کے سوالات پوچھنے کے بعد میں ان کی ٹانگیں دبانے بیٹھ جاؤنگا۔ گھر کا سارا نظام ویسے ہی چل رہا ہوگا۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف اور وہ سب کی نگرانی کر رہے ہوں گے۔ ان کی بلند آواز اور سخت لہجے میں چھپی شفقت سے سب لطف اٹھا رہے ہوں گے۔
سچ کہوں تو ان کی یادوں نے میرے ذہن کو اس قدر منجمد کر دیا ہے کہ ان کے بچھڑنے کا غم میری شعوری سے بھی کوسوں دور ہے۔ ان کی بخشش کی دعا سے زیادہ میری زباں سے ان کی لمبی عمر کی دعائیں لا علمی میں اب بھی کثرت سے نکلتی ہیں۔ مگر جب حقیقت کا سامنا کرتا ہوں تو خوف کی ایک سرد لہر میرے پورے جسم میں اس قدر تیزی سے دوڑتی ہے جیسے میری روح میرے بدن سے پرواز کر گئی ہو اور میری دنیا ختم ہو گئی ہو۔
 
یہ میرا حوصلہ ہے تیرے بغیر
سانس لیتا ہوں، بات کرتا ہوں

Comments

sana

May his soul rest in peace!