انسانئیت کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان کو انسان سمجھا جائے اور اس کی عزت کی جائے اور احساس کیا جائے۔ کیونکہ انسان انسانوں سے ہی احساس کی امید رکھتے ہیں۔ جہاں خدا نے انسان کو دنیا پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے وہیں انسان کا اولین فرض خدمت خلق قرار دیا ہے۔
یہ خدمت صرف مالی اور مادی مدد کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ عزت اور احساس کر کے کی جاسکتی ہے۔ احساس بھی صرف حال پوچھنا جاننا نہیں بلکہ کسی کا ساتھ دینا بھی اور کسی کی رائے سے اتفاق کرنا بھی ہے۔ اتفاق نہ بھی کیا جائے تو اس کے خیال کی تزلیل کرنے سے گریز کر کے خندہ پیشانی سے بات سنی جائے۔ کیونکہ اپنی رائے کا اظہار کرنا ہر شخص کا حق ہے اور ہمیں اس حق سے کسی کو محروم نہیں رکھنا چاہئے۔ اسی طرح ایک شخص کے زندگی گزارنے کے وہ طور طریقے جو صرف اس پر اثر انداز ہوں، وہ خیالات جو کسی قسم کے نقصان کا بائث نہیں بنتے اور وہ عقائد جن کی نتائج میں کسی طرح کا شر جنم نہیں لیتا اس کا حق ہے جس میں دوسروں کو مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ صرف مداخلت سے گریز ہی نہیں کرنا چاہئے ان کو قبول بھی کرنا چاہئے۔ دوسروں کی رائے، ان کے عقائد کی عزت کرنا چاہئے اور ان کی اور ان کو ان عقائد کی بنیاد پر جانچنے کی بجائے ان کی اوصاف کو دیکھا جائے۔ اس احساس، عزت اور تسلیم رائے کی کمی کی باعث ہم اپنی رائے کے آگے کسی کی رائے برداشت نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک صرف اپنی رائے صحیح ہوتی ہے، اپنے مطالبات جائز اور اپنے عقائد درست ہوتے ہیں۔ جبکہ ساری انسانئیت ایک فطرت پر پیدا ہوئی ہے لکن ہم سب کے لئے اپنے ایمان اس قدر عزیز ہیں کہ ہر شے سے بالاتر ہمارے لئے صرف اپنی رائے اور اپنا عقیدہ ہے۔ بے شک انسانئیت اور احساس عقائد سے بالاتر ہیں۔ مگر یہاں ترجیح مسلک اور مذہب کو دی جاتی ہے۔

