تعلیم نسواں سے مراد مرد اور عورت دونوں کا تعلیم حاصل کرنا ہے ہے جتنا مردوں کو حق ہے تعلیم حاصل کرنے کا اتنا ہی اردو کو بھی حق ہے تو وہ تعلیم حاصل کر سکیں اس کی مثال ایک قاری جیسی ہے جس کے دو ٹائر میں سے ایک خراب ہوجائے تو گاڑی کا چلنا مشکل ہو جاتا ہیں ہیں اسی طرح مرد اور عورت دونوں کا تعلیم حاصل کرنا معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ اگر دونوں میں سے ایک بھی تعلیم حاصل نہیں کرتا تو معاشرے کا چلنا مشکل ہو جاتا ہے ہے
فرمایاگیاہے تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں اس کے لیے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے
بہت سے علاقوں اور دیہاتوں میں عورتوں کو تعلیم نہیں جلائی جاتی اور مرد کی تعلیم پر غور و فکر کیا جاتا ہے ہے حالانکہ کہ عورت کا بھی اتنا ہی تعلیم پر حق ہے جتنا کہ مرد کا تعلیم پر حق ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ مرد اور عورت دونوں کو تعلیم دلائی جائے آئیے عورت کے تعلیم حاصل کرنے سے وہ اپنی بہت سی چیزوں کو سنبھال لیتی ہے
ایک پڑھی لکھی خاتون اور ایک پر خاتون دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے ایک انور خاتون بے شک زیورات اور اچھے کپڑے ڈال کر کیوں نہ بیٹھ جائے وہ اتنی بہتر نہیں ہوگی جتنی ایک تعلیم یافتہ عورت بہتر ہوتی ہے کیونکہ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو کہ زندگی بھر آپ کے ساتھ رہتی ہے
تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو کہ کبھی بھی جوڑی نہیں ہوتا
ایک پڑھی لکھی خاتون ن اپنے گھر کے فاقوں میں بھی اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی سکتی ہے کوئی نوکری کر کے گھر کے آس پاس کے بچوں کو اکٹھا کر کے میں ٹیوشن پڑھ رہا کر یا پھر قرآن پاک پڑھ کے وہ اپنے گھر کا سارا بوجھ اپنے شوہر کے ساتھ بانٹ سکتی ہے اور اس کے کندھوں کا بھی وہ جا کر سکتی ہے جو کہ صرف شوہر کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی بہتر بناتی ہے
ایک پڑھی لکھی ماں اور ان برما میں بھی بہت فرق ہوتا ہے ایک بڑی لکھی ماں اپنے بچے کو باشعور اور تمیز دار اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ اور تمام طریقوں سے آگاہ کرتی ہے اور انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ وہ آئندہ آنے والے دنوں میں ترقی کر سکیں اور ملک کا نام روشن کر سکے جو کہ ہمارے ملک کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے جس سے ہمارا ملک ترقی کی راہ کی طرف گامزن کرے گا
ماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو


بہت اچھی کاوش ہے ہے لیکن کچھ کچھ غلطیاں بھی ہیں ان کو ختم کریں میں نے آپ کی پوسٹ کو ووٹ کر دیا ہے
Ok