ڈینگی بخار سے بچاؤ اور علاج

N

 ڈینگی بخار  وائرس مادہ مچھر  کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے جب ڈینگی بخار  میں مبتلا مریض کو مادہ ڈینگی مچھر کاٹ کر دوسرے صحت مند کو کاٹتی ہے تو ڈینگی وائرس منتقل ہو جاتا ہے ڈینگی مچھر عام مچھروں کی طرح گھروں کے اندر اور آس پاس موجود صاف کھڑے پانی میں پرورش پاتا ہے ڈینگی مچھر کے جسم پر سفید دھبے نما داغ ہوتے ہیں مادہ مچھر مدھم روشنی میں دن کے وقت ہی کاٹتی ہے خصوصا سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت ڈینگی کا حملہ ہوتا ہے جو گرم اور بہار برسات کے موسم میں شام تقریبا چار بجے سے رات 8 بجے تک اور صبح تقریبا چھ سے نو بجے تک ہوتا ہے یعنی سورج طلوع ہونے کے ایک گھنٹہ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد شام کو سورج غروب ہونے کے ایک گھنٹہ پہلے یا ایک گھنٹہ بعد ڈینگی مچھر کاٹنے کے بہت زیادہ امکانات ہو سکتے ہیں

                                 علامات

  • ہلکا بخار شدید بخار 
  • سر درد 
  • آنکھوں کے ڈھیلوں میں درد
  •  غنودگی 
  • جلد پر سرخ نشانات
  •  جسم پر شدید درد
  •  پیٹ درد گردن میں درد 
  • جوڑوں میں درد 
  • متلی اور قے ہونا 
  • بے ہوشی اور بلڈ پریشر کم ہو جانا 
  • پاؤں کے تلوے اور ہتھیلیاں سرخ ہو جاتی ہیں 
  • ڈینگی بخار زندگی میں کئی بار ہو سکتا ہے 
   بن گئی وہ ہار کی سب سے خطرناک علامت ڈینگی ہیمریجک فیور ہے جس میں سر درد بخار جلد پر سرخ اور جامنی نشان پر جاتے ہیں ہیں شدت کی صورت میں منہ ناک کان اور پیشاب کے راستے سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے 
 
 
                      https://healthlibrary.askapollo.com/what-causes-dengue-and-its-common-symptoms/                                                                                              تشخیص     
ڈینگی بخار کی تشخیص مریض کے خون کا معائنہ بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے وائرس کا خون سفید زراعت پر اثرات ہوتے ہیں کے وائرس کی چار اقسام ہوتی ہیں ڈین ایک دو تین چار 
  • بلڈ ٹیسٹ
  •  سی بی سی ڈینگی 
  • ڈینگی اینٹی جن
  •  ڈینگی  پی سی آر
                                     علاج
ایم بی بی ایس ڈی ڈاکٹر صاحب کی زیر نگرانی آرڈر ہدایات اور کرپشن کے مطابق علاج کے لئے تمام تر اقدامات کیے جاتے ہیں بخار اتارنے کے لیے بطور  زیادہ تر پیراسیٹامول میڈیسن کا استعمال کیا جاتا ہے بروفن اسپرین استعمال نہیں کی جاتی 
  1. علاج کے دوران مریض زیادہ سے زیادہ آرام کریں 
  2.  تازہ پھلوں اور تازہ پانی زیادہ سے زیادہ پلایا جائے سادہ اور زود ہضم غذا دی جائے گا
  3.  غذا پہلے شوربے پتلی چپاتی سوب دودھ دہی  دلیے پر مشتمل ہو   
                        بلڈ ٹرانسفیوژن انتقال خونایک نارمل پڑھنے پلیٹلیٹ کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتی ہے اگر یہ تعداد کم ہوکر 25000 ہو جائے تو خطرے کی بات ہے اگر دس ہزار سے کم ہو جائے تو فورا ایکڑ کی تعداد کو بہتر کرنے کے لئے تازہ خون کی بوتلیں حسب ضرورت لگوائی جاتی ہیں
 
       ڈینگی سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر
  • خود کو بچانا 
  • خاندان کو بچانا 
  • کمیونٹی کو بچانا
  • صبح اور شام کے وقت ہاتھ پاؤں گردن کا ماتھے پر مچھر بھگاؤ لوشن کا استعمال کیا جائے 
  • صبح شام گھروں کی کمرے دفتر مسجد سکول ہوٹل بس ویگن کار دکھانا ورکشاپ فیکٹری میں مچھر مار سپرے اور عالمی استعمال کیا جائے گھر دفتر مکان میں ہفتے میں دو بار ضرور کیا جائے دروازوں کھڑکیوں اور روشن دانوں پر جالیاں لگائی جائے تاکہ اندر کبھی مچھر داخل ہی نہ ہو سکے 
  • صبح شام اپنے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ رکھا جائے بچے لڑکیاں عورتیں ہاف بازو اور کر پہننے سے گریز کریں
  • ہر کوئی اپنی اپنی فیملی کے بچانے کے لئے زیر استعمال اپنی بلڈنگ میں سال میں دو تین بار کپڑے کروائے آئے 
  • گھر میں اور ارد گرد تمام خراب پانی ختم کیا جائے گملے آرائشی اندرونی پودے کی تیاریاں کیچن باتھ روم پانی جمع نہ ہونے دیا جائے
  •  پلاسٹک کے لفافے کا انتہائی خطرناک ہیں ان میں بارش شبنم پانی کا چھڑکاؤ گراؤنڈ اکھیاں کو پانی لگانے سے ان میں پانی محفوظ ہو جاتا ہے جو بچوں کے لئے افزائش کے لئے انتہائی موزوں ہوتا ہے
  • پلاٹوں میں گھاس کو بڑھنے نہ دیا جائے پودوں کو بروقت کاٹ چھانٹ اور سمارٹ کرنے کے لیے کٹائی کروائی جائے گی فیور نمی اور گرمی کے موسم میں ان برسات کے موسم میں ہوتا ہے خاص طور پر اگست سے اکتوبر تیز پنکھا چلایا کر نیچے بٹھا جائے
  • سخت گرمی اور سخت سردی میں مچھروں کی بہتات کم ہونے سے ڈینگی بخار نہیں ہوتا آئندہ کیسے خوب تیاری اور اختیار کی جائے پرندوں کے لیے پانی کے برتن جانوروں کے لئے پانی کے برتن میں قبروں کی تیاری میں موجود کیاری میں پانی کھڑا ہونے کی جگہ کو بھی خشک رکھا جائے آئے
  • طائروں کی شاپ سٹائل پنکچر لگانے کی دکان لاری اڈے سبزمنڈی کچی آبادیوں کے بے جا پانی کا خراب ہونا انتہائی خطرناک  ہو سکتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں
  • شہروں دیہاتوں کے اردگرد درد دہان کی فصل اور سبزیوں کے لئے پانی کی بہتات خطرناک ہے  پھر بھی اپنے کھڑے پانی میں مچھر مارنے کا سپرے کیا جائے
  • آبادیوں کے اندر اور ارد گرد ہر جگہ سے پلاسٹک کے لفافے اٹھا کر ایک جگہ محفوظ کر دیے جائیں پورا کرکٹ کے ڈھیروں سے خصوصی طور پر تمام شاپر ختم کردیے جائیں مچھر ہر پیدا ہونے کے لئے 5 سی سی  پانی اور ایک مربع انچ کافی ہوتا ہےhttps://www.shutterstock.com/search/dengue prevention

Comments

rhjhony
nice