His emotions were tested with the passing of two of the most beloved people in his life.
It all started when Angel Jibra’eel (as) woke the Prophet (ﷺ) up and led him to a white beast named Buraq and commenced his journey to Masjid Al - Aqsa. During Al-Isra Wal-Miraj, Jibra’eel (as) stopped the Buraq and told our beloved Prophet (ﷺ) to pray at several places to emphasise the importance of visiting the places in which Allah (swt) bestowed His bounties upon His pious people.
During the second part of the Night of Miraj, Prophet Muhammad’s rose to the heavens with Jibra'eel (as). During the ascension, he met eight prophets in the seven heavens. Each prophet greeted Prophet Muhammad (ﷺ) with, “Welcome, O’ pious Prophet and pious brother!” [Bukhari]
When he finally reached the highest level in the heavens, he was brought into the divine presence of Allah, alone at Sidratul Muntaha (a boundary beyond which none may pass) - it was here that Allah gave this ummah the gift of compulsory Salah.
رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔ یہ واقعہ ہجرت پانچ سال قبل پیش آیا۔رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل پیش آیا۔
سے ملاقات چاہتا ہے۔ منقول ہے کہ اس دن کفار نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اوروہاں آرام فرمانے لگے۔ادھر اللہ کے حکم سے حضرت جبریل پچاس ہزار فرشتوں کی برات اور براق لے کر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کیں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ، آپ کا رب آپ . چناں چہ سوئے عرش سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔ سفر معراج کا سلسلہ شروع ہونے والاتهانبی رحمت کی بارگاہ میں براق حاضر کیا گیا جس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوار ہونا تھا، مگر اللہ کے پیارے محبوب نے کچھ توقف فرمایا۔
گونج اٹھے۔
براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں تک نظر کی حد تھی، وہاں وہ قدم رکھتا تھا۔ براق کا سفر اس قدرتیزی کے ساتھ ہوا کہ جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آگیا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھلتا چلا گیا۔
سے مسجد ملاقات اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ . اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے . کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپکی ملاقات مختلف انبیائے کرام . سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔

