بزنس آٸیڈیاز

K
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
دوستو ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔
اللہ تعالی آپ کو لمبی عمر دے صحت کے ساتھ سلامتی کے ساتھ 


جیسا کہ آپ جانتے ہیں روپے پیسے کی قدریں اور ویلیو بہت بری طرح مفلوج ہو رہی ہے  اور وہ وقت قریب ہے کہ ہم روٹی کے حصول کے لئے وڈیروں کے محتاج ہو کر رہ جایں گے یہ میری بات پکی پینسل سے لکھ رکھ کر لیں کہ ہم نوٹوں کا تھیلا بھر کر بازار جایں گے اور ایک بیگ آٹا چند کلو چینی لایا کریں گے یا بھر خدا نخواستہ ہم ریاستی بدماشوں کے گھروں میں کام کرکے دو وقت کی روٹی کھایں گےاسلئے  ہمیں اپنی خوراک کے لئے بروقت  وقت اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے بہرحال ۔۔
خوراک کی شدید قلت پیدا ہونے کا اندیشہ موجود ہے اور مستقبل کے ان مشکل ترین حالات سے نجات پانے اور منافع بخش بزنس کے لیے صرف ایگریکلچر فارمنگ سود مند کاروبار ہے ۔۔ مقصد یہ کہ کسی بھی علاقے میں سستی زمین خرید کر یہ بزنس کیا جا سکتا ہے ..

مثال کے طور پر اگر ایک کنال آباد زمین شہر سے کچھ دوری پر  دو لاکھ روپے کی ملتی ہے تو ایک کنال زمین میں سے 5 من گندم وصول ہوتی ہے  جو کہ چار ہزار روپے من کے حساب سے بیس ہزار روپے کی ہے جبکہ بھوسا دس ہزار روپے کا ہے ۔یہ چھ ماہ کی فصل ہے ۔۔اگلی ششماہی کی فصل بھی 30000 کی ہے اس طرح پورے سال کی کل آمدنی ساٹھ ہزار روپے بنتی ہے جو کہ غیر آباد زمین پر مشتمل ہے اخراجات بشمول اپنا کھانا پینا  نکال کر کم ازکم پچاس ہزار روپے کی صافی بچت ہے استرح دو لاکھ روپے میں لی گئی ایک کنال زمین تقریبا چار سال میں اپنی قیمت پوری کر دیتی ہے اگر کوئی بھی آدمی شہر میں 40 لاکھ روپے لگا کر مکان کرایہ پر لگاتا ہے تو اس کا کرایہ دس ہزار روپے جو کہ سالانہ ایک لاکھ  بیس ہزار روپے بنتے ہیں اگر یہی سرمایہ 40 لاکھ روپے کی 20 کنال زمین خریدلے تو 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن بن جاتی ہے اس طرح یہ 20 کنال زمین چار سالوں میں اپنی قیمت مکمل طور پر پوری کر دیتی ہے ۔۔ 

یہ تخمینہ مویشی پالنے دودھ کا بزنس کرنے میں مرغیاں رکھنے انڈے کا بزنس کرنے میں دیگر دیسی انڈے  حاصل کرنے کے علاوہ ہے ۔۔ آمدن کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو تندرست رکھنے کے لیے کاشتکاری خالص رضا کا بہترین ذریعہ ہے ۔۔ اس لیے میرا یہ پیغام جہاں تک پہنچے گزارش ہے کہ کسی بھی علاقے میں سستی زمین حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔۔

ایک اور بات کہ 
ایگریکلچر فارمنگ میں فش فارمنگ بھی سود مند ہے یاد رہے کہ اسی ایگریکلچر ڈیری کے ساتھ فارمنگ کا سرکل بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے ۔۔

زرعی فارم می سے حاصل کردہ اناج  انسان کی خوراک ۔۔‏ 
گھاس بھوس جانوروں کی خوراک 
جانوروں کا دودھ مکھن گھی انڈے اور گوشت انسان کی خوراک 
 فش فارم کا گوبر مچھلیوں کی خوراک ۔۔ اور 
مچھلی انسان کی خوراک 

اس طرح ایگریکلچرل  فارم ڈیری فارم اور فش فارم آپ کو آزاد  خودمختار رئیسانی اور تندرست زندگی گزارنے آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کی ضمانت ہے ۔۔

یہاں تھوڑی سوچنے کی بات ہے کہ 
ساری جائیداد مارکیٹ پلازہ یا گھر بیس سال بعد خستہ حال ہو جاتی ہے برعکس اس کے زرعی زمین چار پانچ سالوں میں اپنی قیمت پوری کرنے کے بعد بیس سال میں لاکھوں روپے منافع دینے کے باوجود اصل قیمت سے پندرہ گناہ میں ہو چکی ہوتی ہے۔۔
اپنی قیمتی راۓ کا اظہار کریں ۔۔
 
کلیم اللہ

Comments