Punishment for lying
A young man used to graze among his sheep on the bank of a gutter or a river. He had a habit of lying. Forced by his habit, one day he started yelling in a low voice. The lion has come, the lion has come, run and help me. When I passed by, there was a bold lion there, but Gudria was panting with its teeth. When asked by the people, he said: I wanted to test you that you would come to my husband if necessary. By the way, I myself am enough for the lion. If the lion comes, he will not return alive. The people went back shouting with anger after hearing the lie of Gudree. A few days later, Gudrey once again stopped working. The lion has come, the lion has come, people, run and help me! The people working around thought that the tiger might have really come. Therefore, he used his spears and sticks to help Gudreya, but there was also a lion near Gudreya and he was brazenly wearing it and saying to the people. I just wanted to kill people. People once again cursed him and went back to their fields. Now it has settled in everyone's mind that Gudria is a liar and there is no need to believe anything he says. God's doing was such that one day a lion saw the lion in this direction and scared or scolded him, asking what the lion has done to me and help me, but the people around him in the sufferings also lied to him. Did not go to the middle. The lion started to string the strings of the doll. The lion also jumped on the doll making noise and twisted its neck. The sun has set. Darkness covered everywhere. Gudreya's relatives were worried about Gudreya. Searching for it, when they reached the bank of the river, they found nothing but dead men and dead sheep. Gudreye had been punished for lying and the lives of the sheep were also lost for free. Moral Lesson: No one trusts a liar. ایک نو جوان گڈر یا دریا کے کنارے اپنی بھیڑ میں چرایا کرتا تھا ۔ اسے جھوٹ بولنے کی عادت تھی ۔ اپنی اس عادت سے مجبور ہو کر ایک دن اسزا اد پچی آواز میں چلانے لگا ۔شیر آ گیا شیر آ گیا ، دوڑ ومیری مدد کروا ارد گرد کے کھیتوں میں کام کرنے والے کسان لاٹھیاں کلہاڑ سے اٹھا کے دوڑے آئے ۔ جب گذرے کے پاس کیا تو وہاں کوئی شیر دلیرا تو یہ تھا البتہ گڈریا دانت نکالے نس رہا تھا ۔ لوگوں کے پوچھنے پر کہنے لگا : میں تو تمہیں آزمار ہا تھا کہ ضرورت پڑنے پرتم میری مرد کو آتے ہوکہ نہیں ۔ ویسے شیر کے لیے تو میں خود ہی کافی ہوں ۔شیر آئے گا تو زندہ واپس نہ جائے گا ۔ لوگ گڈریے کا جھوٹ سن کر غصے سے بڑ بڑاتے ہوئے واپس چلے گئے ۔ کچھ دنوں بعد گڈریے نے ایک مرتبہ کر پلا ناشروع کردیا ۔ شیر آگیا شیر آگیا لوگو دوڑ ومیری مدد کرو ! ارد گرد کام کرنے والے لوگوں نے کھا کہ ہوسکتا ہے واقعی شیر آ گیا ہو ۔ اس لیے اپنے کھاڑ ے اور لاطیاں نبھا نے گڈریے کی مدد کو پہنچ گئے لیکن گڈریے کے قریب کو ئی شیر بھی تھا اور وہ ڈھٹائی سے پہنے جارہا تھا اور لوگوں سے کہہ رہا تھا ۔ میں تو صرف تر لوگوں کو آز مار ہا تھا ۔ لوگ ایک مرتبہ پھر اسے برا بھلا کہتے اپنے کھیتوں کو واپس چلے گئے ۔ اب ہر کسی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ گڈریا جھوٹا ہے اور اس کی کسی بات کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن واقعی ایک شیر اس طرف آنگلا شیر کو دیکھ کر ڈر یا بری طرح چلانے لا کہ میرا کیا شیرا کیا اور میری مدد کرو لیکن ارد گر دکھیتوں میں موجودلوگوں نے اسے بھی گڈریے کا جھوٹ بجھا اور کوئی بھی اس کی مد کو نہ گیا ۔ شیر گڈریے کی بھیر وں کو تار کرنے لگا شیر نے شور مچاتے ہوئے گڈریے پر بھی چھلانگ لگا دی اور اس کی گردن مروڑ دی ۔ سورج غروب ہو گیا ۔ ہر طرف اندھیرا چھا گیا ۔ گڈریے کے رشتے داروں کو گڈریے کی فکر لاحق ہوئی ۔ اسے تلاش کرتے کرتے جب دریا کے کنارے پہنچے تو وہاں مرد وگڈریے اور مردہ بھیڑوں کے سوا کچھ برملا ۔ گڈریے کو جھوٹ کی سزا مل چکی تھی اور مفت میں بھیڑوں کی جان بھی پہلی گئی ۔ اخلاقی سبق : جھوٹے پر کوئی اعتبار نہیں کرتا ۔