There used to be a deal in a country. He was very honest and polite. He respected others and people also respected him. He had a respectable position in the society. Once a merchant had to go to another country in connection with his business. He had a lot of gold, he had to go back out of the country for some important work, he left all his wealth with his friend and told him that I will take my trust on my return. After some time, Saudagar completed his work and returned home. One day he went to meet his friend and mentioned sleeping in the conversation. He became depressed at the mention of being a friend and said in a very sad tone, I am sorry that your gold has been eaten. Therefore, I cannot return your Imamate. When Saudagar heard the strange words of his friend, he was surprised and said that his friend's intention has become unfit and he wants to digest his gold under some pretext. At that time he remained silent but in his heart he started thinking about taking revenge on his dishonest friend. One day Saudagar invited this friend of his along with his wife and children to have a feast at his house. When the guests have finished eating, the merchant does not secretly hide the child of his dishonest friend, or after a while, the dishonest friend is worried about his child, then the merchant will say: I also looked outside. A bird was carrying your child. The dishonest friend of the merchant asked in surprise. How can an eagle pick up a child? Mudagar also replied in his tone that in the city where rats can eat gold, they can also carry away children. The merchant's friend was very embarrassed. He told me that Saudagar had taken revenge for his being. He admitted that he The pass is safe and he can take it whenever he wants. Saudagir also returned his friend's money to him and was careful to trust others for the future. There are allowances. You will fill as you will. Tia' or 'revenge for such a person' کسی ملک میں ایک سودا گر رہتا تھا ۔ وہ بہت دیانت دارخفتی اور شریف تھا ۔ دوسروں کی عزت کرتا تھا اور لوگ بھی اس کی عزت کرتے ۔ معاشرے میں اسے عزت کا مقام حاصل تھا ۔ ایک دفعہ سودا گرکو اپنے کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے ملک جانا پڑا ۔ اس کے پاس کافی مقدار میں سونا تھا اس نے اپنے کسی ضروری کام سے واپس وطن سے باہر جانا تھا اس نے اپنا تمام مال اپنے دوست کے پاس رکھوا دیا اور اسے کہا کہ میں واپس آنے پر اپنی امانت لے لوں گا ۔ کچھ عرصے بعد سودا گر اپنا کام مکمل کر کے وطن واپس آ گیا ۔ ایک دن اپنے دوست کو ملنے گیا اور باتوں ہی باتوں میں سونے کا ذکر کیا ۔ دوست ہونے کے ذکر پر افسردہ ہوگیا اور بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگا مجھے افسوس ہے کہ آپ کا سونا چو ہے کھا گئے ہیں ۔اس لیے میں آپ کی امامت واپس نہیں کر سکتا ۔ سودا گر نے اپنے دوست کی عجیب وغریب بات سنی تو حیران رہ گیا اور مجھ گیا کہ اس کے دوست کی نیت میں فتور آچکا ہے اور ویسی کیسی بہانے اس کا سونا ہضم کرنا چاہتا ہے ۔ اس وقت تو وہ خاموش رہا لیکن دل ہی دل میں بددیانت دوست سے بدلہ لینے کے بارے میں سوچنے لگا ۔ ایک دن سودا گر نے اپنے اس دوست کو بیوی بچوں سمیت اپنے گھر پر دعوت کھانے کے لیے بلایا ۔ جب مہمان کھانا کھا چکے تو سودا گر نے چپکے سے اپنے بددیانت دوست کا بچ نہیں چھپاد یا تھوڑی دیر کے بعد بد دیانت دوست کو اپنے بچے کی فکر لاحق ہوئی تو سوداگر کہے گا : م بھی ابھی میں نے باہر دیکھا ۔ ہےکہ تمہارے بچے کو ایک چیل اٹھا کر لے جارہی تھی ۔ سوداگر کے بد دیانت دوست نے حیرت سے پوچھا ۔ کوئی چیل بچے کو کیسے اٹھا سکتی ہے ؟ مودا گر نے بھی اس کے لہجے میں جواب دیا کہ جس شہر میں چوہے سونا کھاسکتے ہیں ، وہاں میں بھی بچوں کو اٹھا کر لے جاسکتی ہیں ۔ سوداگر کا دوست بہ کن کر بہت شرمندہ ہوا ۔ وہ مجھ گیا کہ سودا گر نے اپنے ہونے کا بدلہ لیا ہے ۔ اس نے اقرار کرلیا کہ اس اس پاس محفوظ ہے جب چاہے وہ لے جاسکتا ہے ۔ سودا گر نے بھی اپنے دوست کا نچہ اسے واپس کر دیا اور آئندہ کے لیے دوسروں پر اعتماد انے میں محتاط ہوگیا ۔ اعاتی ہیں ۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ ایسے کو تیا ‘ یا ’ ادلے کا بدلہ

