There is blessing in agreement.

A

There is blessing in agreement It is mentioned once that there was a young son of a farmer in a village. The crane farmer and his peasants used to try to get money from each other, and he was often worried about the quarrels and accidents of his sons. Their disagreement will destroy them. He was always thinking about how to tell his sons the importance and benefits of living in the air of Kala Pul Gray. Finally, nature was kind to him and a recipe came to his mind. One day the farmer called his four sons to him and asked them to bring one by one. When the farmer's disciple was brought, he tied the wood into a bundle and gave it to his sons, saying that the one who breaks the bundle will get a reward. Do not work. Now the farmer asked his elder son to open the bundle of kolkadis. When the tree opened, the farmer asked Pardari's sons to break wood one by one. Everyone broke their own wood easily. The farmer looked at his sons meaningfully and said. My dear, you should learn from this experience. If you continue to fight and argue in it, your enemy will break you all apart like a piece of wood, but if you stay in it in agreement and unity like a thicket of lions, then your mind will not be able to harm you in any way. . The farmer's sons understood their father's words and instead of fighting and quarreling, they decided to live with love and harmony so that the enemy could not touch them. Moral lesson: There is blessing in agreement. ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان کے پار جوان بیٹے تھے ۔ قیمتی سے پاروں آپس میں لانے کو تے رہتے تھے کرین کسان اور اس کے پیٹے اپنے بیٹوں کے جھگڑوں اور نا اتفاقی سے اکثر پریشان رہتا تھا اوراکثر و پتا میرے ملتے ہی ان کا مال ہے میرے مرنے کے بعدان لا کراہے گا ؟ ان کی نااتفاقی انہیں تباہ و برباد کر دے گی ۔ وہ ہر وقت اسی سوچ میں ڈوبا رہتا کہ کس طرح اپنے بیٹوں کالا پل گرے کی ہوا کے انتقالی سے رہنے کی اہمیت اور فائدے بتائے ۔ آخر قدرت نے اس پر مہربانی کی اور اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی ۔ ایک دن کسان نے اپنے چاروں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں ایک ایک لڑی لانے کو کہا ۔ جب کسان کے چیلے کو ہاں لے آئے تو اس نے ان لکڑیوں کو گٹھے کی صورت میں باندھ دیا اور اپنے بیٹوں کو دے کر کہا کہ جو اس ملھے کو توڑے گا اسے انعام ملے اتوب جنوں نے باری باری زور لگا یا مگر گٹھا توڑنے میں سب نا کام رہے ۔ اب کسان نے بڑے بیٹے کولکڑیوں کا گٹھا کھولنے کے لیے کہا ۔ جب کھا کھل گیا تو کسان نے پارداری بیٹوں کو ایک ایک لکڑی دے کر توڑنے کے لیے کہا ۔ ہر ایک نے اپنی اپنی لکڑی کو آسانی سے توڑ دیا ۔ کسان نے اپنے بیٹوں کی طرف بڑے معنی خیز انداز میں دیکھا اور کہنے لگا ۔ میرے پیٹا تمھیں اس تجربے سے بین سیکھنا چاہیے ۔ اگر اس میں لڑتے جھگڑتے رہو گے تو تمہارا دشمن علیحدہ علیدہ لکڑی کی طرح تم سب کو الگ الگ توڑ دے گا لیکن اگرتم لویوں کے گھنے کی طرح اس میں اتفاق اور اتحاد سے رہو گے تو تمہارا من تمہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔ کسان کے بیٹوں کو باپ کی بات سمجھ آگئی اور انہوں نے آئندہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کی بجائے پیار ومحبت اور اتفاق سے رہنے کا فیصلہ کرلیا تا کہ دشمن ان کا بال بھی یا نہ کر سکے ۔ اخلاقی سبق : اتفاق میں برکت ہے ۔

Comments