A disorder of habit

A

It is mentioned once that in a forest on the banks of the river there lived a tortoise and a tortoise. There was a deep friendship between the two. The turtle used to take a dip in the river, but the scorpion used to roam around on the river bank. He had a great longing in his heart for a trip to the river. Finally, he said to the turtle, "My friend, you are traveling alone in Paki. Give me a chance too." Tortoise said that you should ride on my back with great enthusiasm and in this way you will travel across the river with open heart. The little boy got on the turtle's back and started swimming in the turtle river. They were enjoying the river walk. When the turtle reached the riverbed, he heard a rustling sound. He asked the scorpion what kind of voice it was. The scorpion said that I am running a dattak. Turtle said why? What is the honor that I am doing good to you and you are treating me badly. The back was left reeling. He thought that the hungry should be taught a lesson. He said to the scorpion that I also have a habit that I dive into the river. The scorpion ran a lot or I will drown, but the tortoise took a dive and dived into the river.

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دریا کے کنارے ایک جنگل میں ایک بھواور کچھوار ہتے تھے ۔ دونوں میں گہری دوستی تھی کچھوا تو دریامیں ڈبکیاں لگایا کرتا لیکن بچھو دریا کے کنارے ہی گھومتا رہتا تھا ۔ اس کے دل میں دریا کی سیر کی بڑی حسرت تھی ۔آخر اس نے کچھوے سے کہا کہ یارا تم اکیلے در پاکی سیر کرتے ہو کبھی میں بھی اس کا موقع دو ۔ کچھوے نے کہا کہ بڑے شوق سے تم میری پیٹھ پرسوار ہو جاؤ اور اس طرح تم دل کھول کر دریا کی سیر کرلو گے ۔ چانچ بچو کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوادریا میں تیرنے لگا ۔ وہ دریا کی سیر سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ جب کچھوا دریا کے دسط میں پہنچا تو اس نے کھٹ کھٹ کی آواز سنی ۔ اس نے بچھو سے پوچھا کہ سیکیسی آواز ہے ؟ بچھو نے کہا کہ میں ڈتک چلا رہا ہوں ۔ کچھوے نے کہا کیوں ؟ یہ کیا شرافت ہے کہ میں تمہارے ساتھ نیکی کررہا ہوں اور تم میرے ساتھ برائی سے پیش آرہے ہو بچھو نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ڈنگ مارنا میری عادت ہے اور میں عادت کے ہاتھوں مجبور ہوں ۔ پچھوا پیچ و تاب کھا کر رہ گیا ۔ اس نے سوچا کہ بھوکو سبق سکھانا چاہیے ۔ اس نے بچھو سے کہا کہ میری بھی ایک عادت ہے وہ یہ کہ میں دریا میں غوطہ لگا یا کرتا ہوں ۔ بچھو بہت چلا یا کہ میں ڈوب جاؤں گا لیکن کچھوے نے ایک بینی اور دریامیں غوطہ لگادیا بچھو در پامیں بہ گیا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔

Comments