میں تجھے اک دن بڑا رولاؤں گا
تیری پہنچ سے بہت دور نکل جاؤں گا
دے کر تجھے کچھ تلخ یادیں
میں تیرا سکون چھین جاؤں گا
توں مانگے گا دعائیں میرے لوٹ آنے کی
پر میں گیا، تو کبھی واپس نہ آؤں گا
رہے گا توں کچھ اس طرح سے دنیا میں
سب کچھ تو ہو گا، پر پیار نہ مل پائے گا
مانا کہ میں برا ہوں، نہیں ہیں آدابِ گفتگو
لیکن مجھ جیسا یار توں کہاں ڈھونڈ پائے گا
تجھے لگتا ہے، توں بھول جائے گا مجھے
جانتا ہوں۔ ۔ یہ بھی کہاں تجھ سے ہو پائے گا
توقیر یاد کرے گا جب وہ میری باتوں کو
آنسوؤں سے اس کا چہرہ بھیگ جائے گا

